جاپانی حکومت نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے متنازعہ کوریل جزائر کے دورے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ یہ روسی رہنما کا ان جزائر کا پہلا دورہ ہے، جس کی تصدیق روسی سرکاری میڈیا نے کی ہے۔ جاپان ان جزائر کو اپنا شمالی علاقہ قرار دیتا ہے اور ان پر روس کے قبضے کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔
کوریل جزائر، جنہیں جاپان میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا ہے، دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے روس کے زیر انتظام ہیں۔ تاہم، جاپان ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے کوئی باضابطہ امن معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔ صدر پوٹن کا یہ دورہ جاپان کے لیے خاص طور پر حساس ہے کیونکہ یہ اس کے علاقائی دعووں کو براہ راست چیلنج کرتا ہے۔
جاپان نے اس دورے کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے روسی سفیر کو طلب کیا اور اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ جاپانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور امن معاہدے کے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ٹوکیو نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو علاقائی کشیدگی میں اضافہ کریں۔






