سٹریمنگ پلیٹ فارم ٹوئچ نے اپنے صارفین کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ ایمیزون کو ان کا مواد مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت کے لیے استعمال کرنے سے روک سکیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پلیٹ فارم کے مداحوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی کہ ایمیزون ان کی اجازت کے بغیر ان کے لائیو سٹریمز اور دیگر مواد کو AI ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ٹوئچ، جو کہ ای کامرس کی بڑی کمپنی ایمیزون کی ملکیت ہے، نے پہلے اپنی سروس کی شرائط میں ایسی شقیں شامل کی تھیں جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ صارفین کا مواد ایمیزون کی AI ٹیکنالوجیز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس پالیسی پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل آیا، جنہوں نے اپنی تخلیقی ملکیت، پرائیویسی اور اپنے کام کے تجارتی استعمال کے بارے میں گہرے خدشات کا اظہار کیا۔ بہت سے سٹریمرز نے محسوس کیا کہ ان کے مواد کو ان کی واضح رضامندی کے بغیر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اب، ٹوئچ نے ایک نئی سیٹنگ متعارف کرائی ہے جو صارفین کو یہ کنٹرول دیتی ہے کہ آیا ان کا مواد ایمیزون کے AI ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے یا نہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف صارفین کو زیادہ خودمختاری فراہم کرتا ہے بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے کہ وہ AI کے استعمال کے حوالے سے صارفین کی رضامندی کو کس قدر اہمیت دیں۔ یہ اقدام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی ملکیت اور AI کے اخلاقی استعمال کے بارے میں جاری بحث میں ایک اہم پیش رفت ہے۔






