وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر 2025 کے بلدیاتی قانون پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، جس سے ملک میں بلدیاتی نظام کی آئندہ شکل کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
احسن اقبال کے مطابق، مسلم لیگ (ن) آئندہ بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئے قانون پر غور کر رہی ہے۔ اس بحث کا مقصد ایک ایسا جامع اور پائیدار بلدیاتی نظام وضع کرنا ہے جو نچلی سطح پر عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنا سکے اور ترقیاتی منصوبوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنائے۔ یہ اقدام ملک میں جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام “کیپٹل ٹاک” میں میزبان حامد میر سے بات چیت کرتے ہوئے احسن اقبال نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت اس معاملے پر گہرائی سے غور کر رہی ہے تاکہ 2025 میں نافذ ہونے والا بلدیاتی قانون تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قبول ہو اور ملک کے مختلف صوبوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت دے سکتا ہے، اور مسلم لیگ (ن) اس سمت میں مثبت پیش رفت کے لیے پرعزم ہے۔







