ایک نئی سٹارٹ اپ کمپنی نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ وائرس کے ذریعے ایک مریض کا علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ طبی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اینٹی بائیوٹک مزاحمتی انفیکشنز (antibiotic-resistant infections) ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکے ہیں۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بعض وائرس، جنہیں بیکٹیریوفیجز (bacteriophages) کہا جاتا ہے، بیکٹیریا پر حملہ کرتے ہیں اور بعض اوقات اینٹی بائیوٹک مزاحمتی انفیکشنز کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ وائرس قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں اور طویل عرصے سے ان کے علاجاتی استعمال پر تحقیق جاری ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں مخصوص مقاصد کے لیے تیار کرنا ایک نئی جہت ہے۔
اس نئی پیش رفت میں، سٹارٹ اپ نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک مخصوص مریض کی بیماری کے مطابق ایک وائرس کو تیار کیا ہے۔ یہ طریقہ کار ذاتی نوعیت کی ادویات (personalized medicine) کے میدان میں ایک نئی راہ کھول سکتا ہے، جہاں ہر مریض کی منفرد حالت اور انفیکشن کے مطابق علاج ڈیزائن کیا جا سکے گا۔ اگر یہ دعویٰ کامیاب ثابت ہوتا ہے، تو یہ اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے عالمی بحران سے نمٹنے میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے اور مستقبل میں بیماریوں کے علاج کے طریقوں میں انقلاب لا سکتا ہے۔





