بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے معزول چیف پراسیکیوٹر کریم خان کے وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے موکل ایک سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ دعویٰ کریم خان کے خلاف جاری آئی سی سی کی تحقیقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس نے عالمی قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، کریم خان کے خلاف یہ تحقیقات آئی سی سی کے اندرونی میکانزم کے تحت شروع کی گئی ہیں، تاہم ان کے دفاعی وکلاء کا مؤقف ہے کہ ان تحقیقات کی بنیاد ٹھوس شواہد کے بجائے سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کریم خان کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ہی انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ موجودہ تحقیقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
اس صورتحال نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وکلاء کا اصرار ہے کہ اگر آئی سی سی کے اندر ہی اس طرح کی سیاسی مداخلت کی اجازت دی گئی تو یہ عدالت کے بنیادی اصولوں اور عالمی انصاف کی فراہمی کے مقصد کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ اس معاملے پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل کی جائیں گی یا نہیں۔


