اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملائشیا جانے والے ایک شہری کو پرواز سے آف لوڈ کرنے کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو کل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس ایاز شوکت پر مشتمل سنگل بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اس اقدام کو شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتی اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق، متاثرہ شہری کو بغیر کسی ٹھوس قانونی جواز کے پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اسے نہ صرف سفری منصوبوں کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ شہری نے اپنے موقف میں کہا کہ اسے غیر قانونی طور پر سفر سے روکا گیا اور اس کے آزادانہ نقل و حرکت کے حق کی خلاف ورزی کی گئی۔ عدالت نے اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ سفر سے روکنا آئین پاکستان میں دیے گئے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
جسٹس ایاز شوکت نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ حکومتی اہلکار بغیر کسی واضح قانون کے شہریوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ کل تمام ضروری دستاویزات، آف لوڈنگ کی وجوہات اور اس معاملے کی مکمل تفصیلات کے ساتھ عدالت میں پیش ہو کر وضاحت پیش کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر افسر تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کیس کی مزید سماعت کل ہوگی اور عدالت نے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔



