کراچی: میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں مقتول میر رضا کے اہلِ خانہ اپنے وکیل اور معروف سماجی کارکن جبران ناصر کے ہمراہ پیش ہوئے۔ کمیشن نے کیس کی گہرائی میں جانے کے لیے مختلف فریقین کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ کیس گزشتہ کئی عرصے سے عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور مقتول کے لواحقین انصاف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔
کارروائی کے دوران ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب میر رضا کے بزنس پارٹنر نے اپنے بیان میں چرس کی سگریٹ کا ذکر کیا۔ اس انکشاف پر جوڈیشل کمیشن نے سخت سوالات اٹھائے اور بزنس پارٹنر سے اس معاملے کی تفصیلات طلب کیں۔ کمیشن کے اراکین نے اس پہلو پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اس سگریٹ کا قتل کے واقعے سے کوئی تعلق تھا یا یہ محض ایک ضمنی ذکر تھا۔ ذرائع کے مطابق، کمیشن نے اس بیان کی صداقت اور اس کے پس پردہ محرکات کو جانچنے کے لیے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میر رضا کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیس کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر حقائق کو سامنے لائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیارے کے قتل کے پیچھے چھپے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شفاف طریقے سے کارروائی مکمل کرے گا اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔ کیس کی آئندہ سماعت میں مزید گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے اور اہم شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔



