اسلام آباد: آج ملک بھر میں یوم تکبیر قومی جوش و خروش، عقیدت و احترام اور تجدید عہد کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن 28 مئی 1998 کو پاکستان کے کامیاب ایٹمی تجربات کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب پاکستان نے اسلامی دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن کر اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے عزم کا اعادہ کرنا اور ان تمام سائنسدانوں، انجینئرز اور سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اس تاریخی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یوم تکبیر کے موقع پر ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں قومی پرچم لہرائے گئے اور شہداء و غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مختلف شہروں میں سیمینارز، کانفرنسز اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں جہاں مقررین پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اہمیت اور اس کے دفاعی پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خصوصی نشریات پیش کی جا رہی ہیں جن میں ایٹمی پروگرام کی تاریخ، اس کے بانیوں کی خدمات اور ملک کے لیے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے صدر مملکت اور وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے قوم کو مبارکباد پیش کی اور ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ دن پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ صرف ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی معاون ہے۔ قوم اس دن اپنے اتحاد، عزم اور وطن سے محبت کا اظہار کرتی ہے، اور یہ عہد کرتی ہے کہ وہ ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گی۔ یوم تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک متحد قوم اپنے مقاصد کے حصول اور اپنی بقا کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔






