پاکستان بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال نے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ہڑتال جاری رہی تو ملکی برآمدات اور بین الاقوامی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پی ٹی سی کے مطابق، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث خام مال کی فیکٹریوں تک ترسیل اور تیار شدہ مصنوعات کی بندرگاہوں تک رسائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اس تعطل سے نہ صرف مقامی سطح پر پیداواری عمل سست روی کا شکار ہے بلکہ برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ کونسل نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی ساکھ اور اربوں ڈالر کے برآمدی اہداف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات، جن میں ٹیکسوں میں اضافہ اور بھاری جرمانوں سے متعلق مسائل شامل ہیں، کے حل تک ہڑتال جاری رکھنے پر بضد ہیں۔
پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ نمایاں ہے، اور یہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ پی ٹی سی نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں اور متعلقہ حکومتی اداروں کے درمیان مذاکرات کو یقینی بنائیں تاکہ اس بحران کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال کا جاری رہنا ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے بین الاقوامی خریداروں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا۔




