امریکی ریاست مین میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ نے ایک آپریشن کے دوران ایک کولمبیائی شہری کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ امریکی امیگریشن حکام کی کارروائیوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ قبل ہی ہیوسٹن میں ایک امیگریشن ایجنٹ کے ہاتھوں ایک غیر دستاویزی تارک وطن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان پے در پے واقعات نے امریکہ میں تارکین وطن کی حفاظت اور امیگریشن ایجنسیوں کے اختیارات کے استعمال پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔
حکام نے ہلاک ہونے والے کولمبیائی شہری کی شناخت اور واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکین وطن کے حامی گروہوں نے دونوں واقعات کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

