لاہور: اینٹی کرپشن حکام نے میو ہسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان کو سنگین بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والی انکوائری ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے پر حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاری کروڑوں روپے کے سٹینٹ بدعنوانی سکینڈل کے تناظر میں عمل میں آئی ہے۔
اینٹی کرپشن کے ترجمان کے مطابق، یہ کارروائی ڈاکٹر احمد کمال کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کے بعد شروع کی گئی۔ حکام نے ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس میں مبینہ طور پر سٹینٹ کی خریداری میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان کو متعدد بار انکوائری میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔
ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان پر کروڑوں روپے مالیت کے سٹینٹ کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔ اینٹی کرپشن حکام نے انہیں مزید تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور توقع ہے کہ اس سکینڈل میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔ اس واقعہ نے ہسپتالوں میں شفافیت اور احتساب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔






