پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے نادرا کے متعدد افسران کو غیر قانونی دستاویزات جاری کرنے اور رشوت ستانی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور اب گرفتار افسران نے دورانِ تفتیش کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان انکشافات سے ایک بڑے نیٹ ورک کے پردے چاک ہونے کا امکان ہے جو برسوں سے فعال تھا۔
ذرائع کے مطابق، گرفتار نادرا افسران نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اس غیر قانونی دھندے میں نہ صرف نادرا کے اندرونی اہلکار شامل تھے بلکہ بیرونی عناصر بھی انہیں جعلی دستاویزات کی تیاری اور فراہمی میں معاونت فراہم کرتے تھے۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک قومی شناختی کارڈز (CNICs) سمیت دیگر حساس دستاویزات کو غیر قانونی طور پر جاری کرنے میں ملوث تھا۔ رقم کی وصولی کا ایک منظم طریقہ کار تھا جس کے تحت ہر دستاویز کے عوض بھاری رقوم لی جاتی تھیں اور یہ رقم مختلف افراد میں تقسیم ہوتی تھی۔ یہ نیٹ ورک دستاویزات فراہم کرنے اور رقم وصول کرنے کے لیے ایک منظم چین کے تحت کام کر رہا تھا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان انکشافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور اس نیٹ ورک میں شامل تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ کارروائی ملک میں بدعنوانی کے خاتمے اور نادرا کے نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ قومی سلامتی اور شہریوں کی شناخت سے متعلق کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔


