اسلام آباد: خیبر پختونخوا حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اپنے حصے میں اضافے کے لیے آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ صوبائی حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر صدارتی آرڈر جاری کرنے کا حکم دے۔ یہ اقدام صوبوں اور وفاق کے درمیان مالیاتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جہاں صوبے اپنے مالیاتی وسائل کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو اپنے بڑھتے ہوئے مالیاتی چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی قربانیوں، اور ترقیاتی منصوبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں زیادہ حصہ درکار ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی تقسیم کا تعین کرتا ہے۔ نئے کمیشن کی سفارشات کی منظوری اور ان پر عمل درآمد صوبوں کی مالیاتی خودمختاری اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس آئینی درخواست کا مقصد یہ ہے کہ عدالت وفاقی حکومت کو پابند کرے کہ وہ نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات کو جلد از جلد نافذ کرے تاکہ صوبوں کو ان کے آئینی حقوق کے مطابق مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کی منصفانہ تقسیم صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔ اس درخواست پر آئینی عدالت کی کارروائی پر ملک بھر کی نظریں مرکوز ہوں گی، کیونکہ اس کے نتائج وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔


