ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں 2011 کے ہولناک قتل عام کے متاثرین کی یاد میں ایک نئی یادگار کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ یہ یادگار اتوار کو ایک پروقار تقریب میں عوام کے لیے کھولی گئی، جو اس حملے کی آئندہ برسی سے قبل ایک اہم قدم ہے۔ اس یادگار کا مقصد ان افراد کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے اس المناک واقعے میں اپنی جانیں گنوائیں۔
یہ قتل عام 22 جولائی 2011 کو پیش آیا تھا جب دائیں بازو کے انتہا پسند آندرس بیہرنگ بریوک نے پہلے اوسلو کے حکومتی کوارٹر میں بم دھماکہ کیا اور پھر یوٹویا جزیرے پر لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ میں فائرنگ کی۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 77 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ یہ واقعہ ناروے کی تاریخ کے بدترین پرتشدد واقعات میں سے ایک ہے۔
نئی یادگار ایک فن پارہ ہے جو متاثرین کی یاد کو تازہ رکھنے اور قوم کو اس صدمے سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی نقاب کشائی کے موقع پر حکومتی عہدیداران، متاثرین کے اہل خانہ اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ یادگار نہ صرف ہلاک ہونے والوں کی یاد دلائے گی بلکہ ملک کو درپیش انتہا پسندی کے خطرات کے خلاف متحد رہنے کے عزم کی بھی علامت ہے۔






