کراچی کے علاقے ناظم آباد میں نجی اسپتال میں خاتون کی ڈیلیوری کے دوران مبینہ غفلت کے معاملے پر مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اس حساس کیس سے متعلق اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ شہر میں طبی غفلت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ابتدائی طور پر متاثرہ خاتون کی طبی حالت اور اسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خاتون کو اسپتال لائے جانے کے بعد سے اس کی صحت کی صورتحال تشویشناک تھی اور ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی کے باعث اس کی حالت مزید بگڑتی چلی گئی۔ پولیس نے رپورٹ کی روشنی میں اسپتال کے عملے سے پوچھ گچھ کا عمل تیز کر دیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتال کی غفلت نے ان کی عزیزہ کی جان لے لی۔ دوسری جانب، اسپتال انتظامیہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





