معروف شخصیت نورین نیازی نے اپنے خلاف درج کیے گئے مقدمات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کئی کیسز کی بنیاد اور وجہ سمجھ نہیں آتی۔ انہوں نے عدالتی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہت سے مقدمات ایسے ہیں جن کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کیسے اور کیوں بنائے گئے۔
نورین نیازی نے ایک حالیہ بیان میں اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیا جہاں ان کے بقول، ‘میرے گھر میں باتیں ہوئیں، گھر کی باتیں باہر ہوئیں اس پر کیس بنایا گیا’۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ نجی گفتگو کو بنیاد بنا کر قانونی کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بے بنیاد مقدمات نہ صرف افراد کی ذہنی اور مالی پریشانی کا باعث بنتے ہیں بلکہ عدالتی نظام پر بھی غیر ضروری بوجھ ڈالتے ہیں۔ نورین نیازی نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے کیسز کا جائزہ لیا جائے جو محض ذاتی رنجشوں یا غیر اہم باتوں پر مبنی ہوں، تاکہ انصاف کی فراہمی میں شفافیت اور تیزی لائی جا سکے۔




