وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق خاتون اول میلینیا ٹرمپ نے یوکرین کے ایک شہر اولیشکی میں جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو تباہی کے دہانے پر تھا۔ اس شہر کے مکینوں کو زندہ رہنے کے لیے باغ کی جڑی بوٹیاں کھانے پر مجبور ہونا پڑا تھا، اور اب یوکرین اور روس دونوں نے اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
روسی زیر قبضہ خیرسن ریجن میں واقع شہر اولیشکی کئی مہینوں سے شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہا تھا۔ زمینی رپورٹس کے مطابق، خوراک، پانی اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کی شدید قلت تھی، جس نے مکینوں کو زندہ رہنے کے لیے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر، جنگ بندی کی یہ خبر محصور آبادی کے لیے امید کی ایک کرن لے کر آئی ہے۔
اگرچہ میلینیا ٹرمپ کی شمولیت کی مکمل تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں، لیکن اس اعلان سے تنازعات والے علاقوں میں مصائب کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی پیچیدہ اور بعض اوقات غیر روایتی سفارتی کوششوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ جنگ بندی اولیشکی کے پریشان حال مکینوں تک انسانی امداد پہنچانے اور انہیں درکار ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔



