پیرس کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں، فائرنگ کے سلسلے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ فرانسیسی دارالحکومت کے شمال میں واقع ایک پرسکون علاقے میں پیش آیا، جس نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملہ آور نے متعدد مقامات پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے، جو فائرنگ کے اس واقعے کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے کو ‘نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حملے فرانسیسی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہیں اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ صدر میکرون نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
پولیس اور تفتیشی ادارے واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کے محرکات اور اس کے پیچھے موجود کسی بھی ممکنہ نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس واقعے نے فرانس میں نسلی امتیاز اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، جس پر حکومت اور عوام دونوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔



