پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کا بحران ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے، اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ 2.63 ٹریلین روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال پر وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے براہ راست وزارت خزانہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وزارت توانائی کا موقف ہے کہ گردشی قرضے میں اس بے تحاشا اضافے کی بنیادی وجہ وزارت خزانہ کی جانب سے بجلی کی سبسڈی کی بروقت عدم ادائیگی اور بجلی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ کی منظوری میں غیر معمولی تاخیر ہے۔
وزارت توانائی کے حکام نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ وزارت خزانہ نے کی الیکٹرک اور آزاد جموں و کشمیر سمیت مختلف شعبوں کے لیے مختص اربوں روپے کی سبسڈی جاری کرنے میں مسلسل تاخیر کی ہے۔ اس کے علاوہ، بجلی کے نرخوں میں وقتاً فوقتاً ہونے والی ایڈجسٹمنٹ اور اضافے کی بروقت منظوری نہ ملنے سے بھی گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت توانائی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں، بشمول ٹیرف کی منطقی سازی اور ریکوری کی کوششیں، پوری کی ہیں، لیکن وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
گردشی قرضے میں یہ اضافہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (جنکوز) کی مالی حالت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے، جس سے انہیں ایندھن کی خریداری، بجلی کی پیداوار اور دیگر آپریشنل اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ یہ ملک کی مجموعی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ دونوں وزارتوں کے درمیان یہ الزام تراشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کتنے گہرے اور پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔



