پاکستان کی مرغی صنعت نے آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں کسی قسم کے ریلیف پیکج کی عدم موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال اور پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، حکومت کی جانب سے ریلیف نہ ملنا صنعت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق، پولٹری فیڈ کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں اور دیگر خام مال کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، جس سے مرغی کی پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں، اگر حکومت ٹیکسوں میں چھوٹ، سبسڈی یا دیگر مراعات فراہم نہیں کرتی تو صنعت کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں، مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو عام صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا اور غذائی تحفظ کے چیلنجز کو بڑھا دے گا۔
مرغی صنعت ملک کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور غذائی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ صنعت کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجٹ سازی کے عمل میں مرغی صنعت کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور ایسے اقدامات شامل کرے جو اس اہم شعبے کو استحکام بخش سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت حکومتی امداد کے بغیر، یہ صنعت نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑے گی بلکہ اس کے منفی اثرات پوری غذائی سپلائی چین اور صارفین پر بھی مرتب ہوں گے۔



