نیویارک سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، نیویارک کے ریاستی اسمبلی کے رکن زوہران ممدانی نے ‘نیویارک ٹائمز’ کو بتایا ہے کہ وہ اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آمد پر گرفتار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ممدانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری تنازع کے باعث اسرائیلی قیادت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائیوں کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ممدانی کے اس بیان اور نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے جاری بحث کے بعد، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کو امریکہ میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی حکام کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر تحقیقات جاری ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی سربراہ مملکت یا حکومت کو امریکہ میں گرفتار کرنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی استثنیٰ کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم، زوہران ممدانی کا یہ بیان نیویارک میں موجود کچھ حلقوں کی جانب سے اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صورتحال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل مزید سیاسی گرما گرمی کا باعث بن سکتی ہے، جہاں نیتن یاہو کی موجودگی پر احتجاج کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔






