امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے ایک انٹرویو میں ان پیشکشوں کی تفصیلات ظاہر کی ہیں جنہیں کینیڈا نے مسترد کر دیا تھا۔ گریر نے واضح کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے تعطل سے قبل کینیڈا کو کیا پیشکش کی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کی نوعیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
جیمیسن گریر نے بتایا کہ واشنگٹن نے کینیڈا کو ایک جامع پیکج پیش کیا تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا اور ایک نئے تجارتی فریم ورک پر اتفاق کرنا تھا۔ یہ پیشکشیں اس وقت سامنے آئیں جب شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے (NAFTA) کی جگہ ایک نئے معاہدے پر بات چیت جاری تھی، اور امریکہ کینیڈا سے کچھ اہم رعایتیں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ گریر کے مطابق، امریکی پیشکش کینیڈا کے لیے فائدہ مند تھی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔
کینیڈا کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کرنے کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس سے مستقبل کے تجارتی تعلقات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ تجارتی نمائندے کے اس انکشاف سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات کیا تھیں اور دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کس حد تک گہرے تھے۔ یہ صورتحال عالمی تجارتی منظرنامے پر بھی اثرانداز ہوئی اور دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن گئی۔



