پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر ندیم نانی والا ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، جب ان کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم، اب اس معاملے کی حقیقت سامنے آ گئی ہے اور پولیس نے ان کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ندیم نانی والا کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ندیم نانی والا نے ایک سرکاری اہلکار کو اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی سے روکا اور اس کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں ندیم نانی والا نے پولیس پر ناجائز طور پر ہراساں کرنے اور اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام لگایا تھا، لیکن پولیس کا مؤقف ہے کہ ٹک ٹاکر نے خود قانون کی خلاف ورزی کی اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ندیم نانی والا کسی تنازع کا حصہ بنے ہوں۔ ان کی سابقہ ویڈیوز بھی اکثر بحث کا موضوع بنتی رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں، پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ندیم نانی والا کو جلد ہی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب، ندیم نانی والا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بے بنیاد الزامات کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین پولیس اور ٹک ٹاکر دونوں کے کردار پر تبصرے کر رہے ہیں۔


