پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) حاجی فضل الٰہی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارٹی کے 40 منحرف اراکین کے ایک گروپ کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے اس بیان نے صوبائی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر منظر عام پر لے آیا ہے۔
حاجی فضل الٰہی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منحرف اراکین پارٹی کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور اندرونی اختلافات کے باعث ایک گروپ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس سے صوبائی حکومت کی مستقبل کی حکمت عملی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ اراکین کون ہیں اور ان کے تحفظات کیا ہیں۔
اس انکشاف کے بعد پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ان اراکین کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں منحرف اراکین کا سامنے آنا پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور نظم و ضبط پر سوالات اٹھاتا ہے اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔


