ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں ایک درجے کی مزید گراوٹ ہوئی ہے اور اب یہ 101ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ منگل کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے چوتھے بدترین پاسپورٹوں میں شامل ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا بھر کے 199 مختلف پاسپورٹوں کا 227 سفری مقامات کے حوالے سے موازنہ کرتا ہے۔ اس انڈیکس میں کسی بھی پاسپورٹ کی درجہ بندی کا انحصار ان ممالک کی تعداد پر ہوتا ہے جہاں اس پاسپورٹ کے حامل افراد بغیر پیشگی ویزا یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ رواں سال مئی میں پاکستانی پاسپورٹ کے حاملین کو 30 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل تھی جو جولائی میں کم ہو کر 29 ممالک رہ گئی، جس کے باعث اس کی رینکنگ میں ایک درجے کی کمی واقع ہوئی۔ یہ سفری دستاویز جنوری 2021 سے ہی ہینلے انڈیکس پر دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہینلے انڈیکس کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ کے حاملین کو بارباڈوس، کک آئی لینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز، گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، اور وانواتو سمیت گیارہ ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، برونڈی، کمبوڈیا، کومورو آئی لینڈز، جبوتی، گنی بساؤ، مڈغاسکر، مالدیپ، موزمبیق، نیپال، نیو، پلاؤ آئی لینڈز، ساموا، سینیگال، سیرا لیون، تیمور لیسٹے، اور تووالو سمیت سولہ ممالک میں ویزا آن ارائیول کی سہولت دستیاب ہے۔ کینیا، سیشلز اور سری لنکا کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔


