پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ 10 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف ایک پرکشش وعدہ ہے، جس کا اظہار دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے بارہا کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، اس بلند و بالا ہدف کے حصول کی راہ میں کئی سنگین رکاوٹیں حائل ہیں جو اس وعدے اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر رہی ہیں۔ موجودہ تجارتی حجم اس ہدف سے کہیں کم ہے، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ محض ایک خواب ہے یا حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے؟
اس ہدف کی تکمیل میں سب سے بڑی اور بنیادی رکاوٹ ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔ یہ پابندیاں ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین اور بینکنگ چینلز کے استعمال کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام سے ایران کی علیحدگی پاکستان کے لیے روایتی تجارتی طریقوں کو اپنانا تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تجارت کا فروغ متاثر ہوتا ہے۔ پاکستانی بینک اور کمپنیاں پابندیوں کی خلاف ورزی کے خوف سے ایران کے ساتھ براہ راست مالیاتی تعلقات قائم کرنے سے گریزاں ہیں۔
پابندیوں کے متبادل کے طور پر بارٹر (اشیاء کے بدلے اشیاء) تجارت کی تجویز دی گئی ہے، لیکن یہ طریقہ کار بھی 10 ارب ڈالر کے بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ بارٹر تجارت کی اپنی حدود ہوتی ہیں اور یہ وسیع پیمانے پر تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں ناکام رہتی ہے۔ اس کے علاوہ، خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹکس) بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات اور دباؤ اس وعدے اور حقیقت کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر رہے ہیں۔ لہٰذا، جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، 10 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف ایک سراب ہی رہے گا۔
