اسلام آباد: پاکستان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ امریکی حکام کی جانب سے حال ہی میں روکے گئے بحری جہاز ‘لینور/ڈوینا’ کے 22 ایرانی عملے کے ارکان کراچی پہنچ گئے ہیں اور انہیں ایران واپس بھیج دیا جائے گا۔ یہ پیشرفت تہران اور واشنگٹن کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد سفارتی کوششوں کا تازہ ترین حصہ ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اس عمل میں سہولت فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ واقعہ امریکہ کی جانب سے بحری جہاز ‘لینور/ڈوینا’ کو روکنے کے بعد پیش آیا تھا، جس کے عملے کو اب پاکستان کے ذریعے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں جاری ہیں اور پاکستان اس عمل میں ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اقدام سے علاقائی استحکام اور سفارتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔
