اسلام آباد – تہران میں اہم ملاقاتوں کے ایک روز بعد، پاکستان نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا ہے۔ کئی دنوں کی تجارتی رکاوٹ کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے، تاہم ایل پی جی (لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس) کی درآمدات کی مسلسل معطلی نے ملک میں ایل پی جی کی قلت کے مزید سنگین ہونے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
تجارتی ذرائع کے مطابق، سرحد کے جزوی طور پر کھلنے کے باوجود تقریباً 1500 گیس لے جانے والی گاڑیاں اب بھی ایرانی سرحد پر پھنسی ہوئی ہیں۔ ان گاڑیوں کی آمد میں تاخیر ایل پی جی کی فراہمی پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے، جس سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاجروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی توانائی کے بحران اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات، خاص طور پر ایل پی جی جیسی ضروری اشیاء کی درآمد کے لیے، پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ سرحد پر جاری یہ تعطل نہ صرف تاجروں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن رہا ہے، اور حکام سے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

