پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ اسلام آباد نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی عسکری محاذ آرائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی تناظر میں، پاکستان عالمی برادری کے ساتھ سفارتی رابطوں میں سرگرم ہے۔ حال ہی میں، ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار، ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کالاس کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس گفتگو کے دوران، دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی بحالی اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں خطے میں تنازعات کے حل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود، مستقبل میں سفارتی حل کی تلاش جاری ہے، جس کی ایک جھلک سوئٹزرلینڈ کے شہر اسٹینسٹیڈ میں واقع برجن اسٹاک ریزورٹ میں لیک لوسرن سمٹ کے ایک پوسٹر کی نمائش سے ملتی ہے۔ یہ سمٹ 21 جون 2026 کو امریکہ-ایران مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جو عالمی سطح پر سفارتی حل کی امید کو ظاہر کرتا ہے۔






