پاکستان کا پیسہ 4 صوبوں کے بجائے 20 لوگوں میں بٹتا ہے: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں وسائل کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم اور چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا پیسہ چار صوبوں کے بجائے صرف 20 بااثر افراد میں تقسیم ہوتا ہے، جو ملک میں جاری مالیاتی عدم مساوات اور بدعنوانی کی جانب ایک سنگین اشارہ ہے۔

مصطفیٰ کمال کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اقتصادی چیلنجز سے دوچار ہے اور صوبوں کو اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، یہ صورتحال نہ صرف صوبوں کے حقوق کی پامالی ہے بلکہ عام عوام کی محرومی کا بھی سبب بن رہی ہے، جنہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

وفاقی وزیر کے اس بیان نے حکومتی حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ملک کے وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہیں، شفافیت اور احتساب کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات ملک میں مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ تمام صوبوں اور عوام کو یکساں ترقی کے مواقع میسر آ سکیں۔

  • Related Posts

    پاکستانی فورسز کا ردعمل: افغان طالبان اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار، ڈی سی جنوبی وزیرستان کا دعویٰ

    جنوبی وزیرستان: پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ سرحدی کشیدگی کے جواب میں افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے…

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پاک چین ریسرچ سینٹر کی اعزازی چیئرمین شپ قبول کرلی

    اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاک چین ریسرچ سینٹر فار پارٹی ٹو پارٹی ڈائیلاگ اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (Pak-China Research Center for Party-to-Party Dialogue and Strategic Studies)…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔