پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے اپنے ملازمین کو فراہم کی جانے والی مفت بجلی یونٹس کی سہولت کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، اب پیسکو کے ملازمین کو مفت بجلی کے بجائے نقد الاؤنس فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی بجلی کی ضروریات پوری کر سکیں۔ یہ اقدام ملک میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
مفت بجلی یونٹس کی فراہمی پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنا اور کمپنی کے مالی بوجھ کو ہلکا کرنا اس فیصلے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ پیسکو کا یہ فیصلہ دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو اسی طرح کی مراعات فراہم کر رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام سرکاری اداروں میں مفت سہولیات کے خاتمے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
نئے نظام کے تحت، پیسکو کے ملازمین کو ان کے عہدے اور رینک کے مطابق ایک مخصوص نقد الاؤنس دیا جائے گا، جس سے وہ اپنی بجلی کے بل ادا کر سکیں گے۔ اس تبدیلی کا مقصد شفافیت لانا اور مفت بجلی کے غلط استعمال کو روکنا بھی ہے۔ ملازمین کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کی توقع ہے، تاہم کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ طویل مدتی فوائد اور کمپنی کی مالی استحکام کے لیے ضروری ہے۔



