اسلام آباد: پاکستان کو اکتوبر 2023 کے مہینے میں قطر سے صرف دو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کارگو موصول ہوئے ہیں، جو ملک کی مجموعی ایل این جی درآمدات میں ایک تشویشناک حد تک کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی توانائی کے بحران اور بڑھتی ہوئی طلب کا سامنا کر رہا ہے۔ قطر، جو پاکستان کا ایک بڑا اور قابل اعتماد ایل این جی سپلائر ہے، سے حاصل ہونے والی اس کم تعداد نے توانائی کے شعبے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عام طور پر، پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، خاص طور پر بجلی کی پیداوار اور صنعتی شعبے کے لیے۔ قطر سے درآمدات میں یہ نمایاں کمی ملک میں گیس کی قلت کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ اور صنعتی پیداوار میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی کی بلند قیمتیں اور پاکستان کے مالیاتی چیلنجز اس کمی کی بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے حکومت مہنگے اسپاٹ کارگو خریدنے سے گریز کر رہی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، آنے والے سردیوں کے مہینوں میں جب گیس کی طلب عروج پر ہوتی ہے، پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس میں متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش اور ایل این جی کی درآمدات کو مستحکم کرنے کے لیے طویل مدتی معاہدوں پر نظرثانی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ کمی نہ صرف ملکی معیشت پر دباؤ ڈالے گی بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کرے گی۔



