ارجنٹائن کے صدر خاویر مِیلائی نے اپنے حالیہ دورہ میڈرڈ کے دوران ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کو ‘ڈکٹیٹر’ قرار دے کر ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی مختلف مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ صدر مِیلائی نے یہ سخت الفاظ ایک عوامی تقریب میں استعمال کیے جس نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
صدر مِیلائی، جو اپنی غیر روایتی اور اکثر متنازعہ پالیسیوں اور بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں، نے یہ الزام ایک ایسے اجتماع میں لگایا جہاں وہ قدامت پسند اور دائیں بازو کے رہنماؤں سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا یہ بیان ایک خودمختار ملک کے سربراہ کی جانب سے دوسرے ملک کے منتخب وزیر اعظم کے خلاف ایک انتہائی غیر معمولی اور سنگین سفارتی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔ اس بیان نے نہ صرف ہسپانوی حکومت کو ناراض کیا ہے بلکہ یورپی یونین کے حلقوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی آنے کا امکان ہے۔ ہسپانوی حکومت نے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے اور ارجنٹائن سے وضاحت طلب کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مِیلائی کا یہ طرز عمل ان کی داخلی سیاست کا حصہ ہو سکتا ہے جہاں وہ خود کو ایک مضبوط اور بے باک رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس کے بین الاقوامی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعہ عالمی سفارت کاری میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور رہنماؤں کے درمیان ذاتی حملوں کی ایک اور مثال ہے۔




