پاکستان کے ایک ہسپتال میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں چودہ نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس دلخراش واقعے کے بعد ہسپتال کے انتظامات پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر گواہوں کے ان دعووں کے بعد کہ جس وارڈ میں آگ لگی تھی، اس کا دروازہ باہر سے مقفل تھا۔ یہ دعوے ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنگین غفلت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب، ہسپتال انتظامیہ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وارڈ کا دروازہ مقفل نہیں تھا بلکہ بچوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی گارڈز تعینات تھے۔ ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار دروازے پر موجود تھے تاکہ نوزائیدہ بچوں کو کسی بھی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے اور غیر متعلقہ افراد کی رسائی کو روکا جا سکے۔
گواہوں اور ہسپتال انتظامیہ کے بیانات میں یہ تضاد صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور عوام کی جانب سے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومتی سطح پر اس معاملے کی کس طرح تحقیقات کی جاتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔




