کراچی – اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں ہونے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد، کراچی کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ صورتحال مریضوں اور عملے کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں بڑے نقصان کا خدشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زیر انتظام عباسی شہید ہسپتال میں آگ بجھانے والے آلات (فائر ایکسٹنگوئشرز) کی تعداد صرف 13 ہے۔ اس کے علاوہ، ہسپتال کے عملے کو آگ سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت یا ہنگامی صورتحال میں انخلاء کی مشقیں (فائر ڈرلز) فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عباسی شہید ہسپتال بلکہ شہر کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی حفاظتی اقدامات کی سنگین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ سے بچاؤ کے لیے صرف فائر ایکسٹنگوئشرز کا ہونا کافی نہیں بلکہ فائر الارم سسٹم، ہنگامی راستے، اور عملے کی مکمل تربیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ PIMS میں پیش آنے والے واقعے نے ملک بھر کے ہسپتالوں میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے۔ حکام کو فوری طور پر کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔




