اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ نے ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی ہولناک آگ کے حوالے سے اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ اس المناک واقعے میں کئی نوزائیدہ بچے جان کی بازی ہار گئے تھے، جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ آگ نرسری میں بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ کے باعث چنگاری اٹھنے سے شروع ہوئی۔ چنگاری اٹھتے ہی آگ نے سیکنڈوں کے اندر شدت اختیار کر لی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر انکیوبیٹر کے قریب آکسیجن پوائنٹس کی موجودگی نے آگ کو انتہائی تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں شعلے بے قابو ہو گئے اور صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
آکسیجن کی موجودگی نے آگ کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تیزی سے پھیلنے والی آگ نے نوزائیدہ بچوں کو وہاں سے نکالنے کا موقع بھی نہ دیا اور یوں کئی معصوم جانیں ضائع ہو گئیں۔ یہ ابتدائی رپورٹ واقعے کی سنگینی اور حفاظتی اقدامات کی خامیوں کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔




