پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے دو افغان صحافیوں کی ڈی پورٹیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر دو ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے افغان صحافیوں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں، کی درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ وہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد اپنی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں ڈی پورٹ کرنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان صحافیوں کی پناہ کی درخواستوں اور ان کے پاکستان میں قیام سے متعلق معاملات کا دو ماہ کے اندر جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرے۔ اس دوران، انہیں ملک سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔




