اسلام آباد کے معروف پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) اسپتال میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلخراش واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ اسپتال کی نرسری میں اچانک آتشزدگی بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کئی معصوم نومولود بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ المناک واقعہ جمعہ کی صبح پیش آیا، جب آگ نے نرسری کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی اور بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم اس افسوسناک حادثے میں کئی نوزائیدہ جانیں ضائع ہو گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، لیکن تحقیقات جاری ہیں۔
اس ہولناک واقعے پر ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم، اور دیگر اہم سیاسی رہنماؤں نے اپنے بیانات میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم نے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سیاسی رہنماؤں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کریں اور زخمی بچوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس واقعے نے ملک بھر کے اسپتالوں میں آگ بجھانے کے نظام اور حفاظتی پروٹوکولز کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عوام کی جانب سے بھی اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔




