اسلام آباد: پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں ہسپتال میں بچوں کی اموات کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی ہلاکتیں ناقابلِ برداشت ہیں اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے اور اس کی وجوہات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے غفلت برتنے والے تمام اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسپتالوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنایا جائے اور نومولود بچوں کی دیکھ بھال کے لیے عالمی معیار کے پروٹوکولز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کی فوری برطرفی کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مستقبل میں ایسی غفلت کو روکنے کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔
اس واقعے کے بعد وزیرِ اعظم نے ایک جامع تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکتوں کی وجوہات کا تعین کرے گی اور اپنی رپورٹ جلد از جلد پیش کرے گی۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسپتال کے انتظامی ڈھانچے، طبی آلات کی دستیابی، عملے کی تربیت اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ صحت کا شعبہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔




