لاہور: حکومت پنجاب نے صوبے بھر کے تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک اہم پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت انہیں اپنی کل نشستوں کا 10 فیصد غریب اور مستحق طلباء کو مفت تعلیم کے لیے مختص کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کا مقصد تعلیم کو ہر طبقے تک پہنچانا اور نجی تعلیمی اداروں کی سماجی ذمہ داری کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں تعلیمی مساوات کو فروغ دینے اور مالی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، یہ مفت نشستیں ایسے طلباء کے لیے ہوں گی جو مالی طور پر کمزور ہیں اور نجی اسکولوں کی مہنگی فیسیں برداشت نہیں کر سکتے۔ اس پالیسی پر عمل درآمد سے ہزاروں غریب اور ہونہار بچوں کو نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا جو بصورت دیگر اس سہولت سے محروم رہتے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ معاشرتی انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔
حکومت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی نجی اسکول کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ تعلیم نے تمام پرائیویٹ اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں، متعلقہ اسکولوں کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے اور انہیں مزید تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ اس اہم سماجی ذمہ داری سے پہلو تہی نہ کر سکے اور ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہو۔




