لاہور: ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں، ڈیڑھ سالہ بچی سے زیادتی اور اس کے قتل کے سنگین الزام میں گرفتار ملزم کو عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزم کی عمر کا تعین کرنے کے لیے فوری طور پر طبی معائنہ کروائے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے اس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالتی حکم کے مطابق، ملزم کو آئندہ چند روز میں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جس کے دوران تفتیشی حکام کیس سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کریں گے۔ ملزم کی عمر کا تعین اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے کیس کی قانونی نوعیت اور ممکنہ سزا پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر ملزم نابالغ ثابت ہوتا ہے تو اس پر جووینائل جسٹس سسٹم کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ بالغ ہونے کی صورت میں اسے بالغوں کے قوانین کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس نوعیت کے واقعات معاشرے میں شدید غم و غصے کا باعث بنتے ہیں اور عوام کی جانب سے ایسے سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے تاکہ متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ یہ کیس ملک بھر میں بچوں کے تحفظ اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کی روک تھام کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تقویت دے گا۔




