ہسپانیہ میں اردو بولنے والے قارئین کے لیے ایک اہم خبر کے مطابق، ریاست مخالف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔ باغ سے تعلق رکھنے والے اس کمیٹی کے ایک اہم کور ممبر، افتخار محمود نے تنظیم سے مکمل لاتعلقی اور بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کالعدم کمیٹی اپنی حالیہ پرتشدد سرگرمیوں اور ریاست مخالف بیانیے کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔
افتخار محمود نے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح طور پر کہا کہ “میں ریاست مخالف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث کالعدم ایکشن کمیٹی سے مکمل لاتعلقی اور بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں۔” ان کے اس اعلان کو کالعدم تنظیم کے اندرونی اختلافات اور اس کی گرتی ہوئی ساکھ کا عکاس سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنظیم کے اندر بھی اس کی پالیسیوں اور پرتشدد رجحانات پر تحفظات بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اہم اراکین علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی حالیہ عرصے میں مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہروں اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے، جس کے بعد حکومتی سطح پر اس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ افتخار محمود جیسے اہم رکن کی علیحدگی نہ صرف تنظیم کو مزید کمزور کرے گی بلکہ یہ ریاستی اداروں کی جانب سے امن و امان کی بحالی کی کوششوں کو بھی تقویت دے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلان کالعدم تنظیم کے لیے ایک اہم دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دے گا۔







