ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک کراچی، پیر محمد شاہ نے شہر میں ٹریفک کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر تقریباً 45 ہزار ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں جو اپنے اصل مالکان کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ حادثات کی صورت میں سنگین قانونی اور انتظامی مشکلات کا باعث بھی بنتی ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ ای ٹکٹنگ کا نظام، جو کہ سیف سٹی منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے، ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔
پیر محمد شاہ نے مزید بتایا کہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا سڑکوں پر چلنا ٹریفک کے نظام میں بے ضابطگی پیدا کرتا ہے اور حادثات کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای ٹکٹنگ کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرمانے کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ شہریوں میں قوانین کی پاسداری کا شعور بھی بیدار ہوگا۔ اس نظام کا مقصد ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنا اور سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔
سیف سٹی منصوبے کے وسیع تر تناظر میں بات کرتے ہوئے، ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شہر بھر میں جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ یہ کیمرے نہ صرف ٹریفک کی نگرانی کریں گے بلکہ شہر میں جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ای ٹکٹنگ اور سیف سٹی منصوبے کے مکمل نفاذ سے کراچی کے شہریوں کو ایک محفوظ اور منظم ٹریفک کا ماحول میسر آئے گا، جس سے شہر کی مجموعی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔


