کراچی: شہر میں پسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان جوڑے کو عدالت میں پیشی کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور عدالت سے نکلنے کے بعد سے ہی جوڑے کا پیچھا کر رہے تھے اور انہیں ایک منصوبہ بند حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ معاشرتی دباؤ اور غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کی ایک اور مثال بن گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، مقتول جوڑے نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور وہ ایک مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالت سے باہر نکلتے ہی مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ حملہ ذاتی رنجش یا غیرت کے نام پر کیا گیا ہو سکتا ہے۔
سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) نے اس دلخراش واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ملزمان کی جلد گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں پسند کی شادیوں کے خلاف موجود شدید مزاحمت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد واقعات پر تشویش کو جنم دیا ہے۔



