بیجنگ: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان حال ہی میں بیجنگ میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں دونوں ممالک نے اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر ‘نئے وسیع اتفاق رائے’ پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کو ایک نئی جہت دینے کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ملاقات کے دوران، دونوں فریقین نے گوادر بندرگاہ کی صلاحیت کو علاقائی مرکز کے طور پر بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں تجارت اور رابطے کو بھی فروغ دے گا۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد نے چین کے شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے “ہدف شدہ اقدامات” کی یقین دہانی کرائی ہے، جو پاکستان میں کام کرنے والے چینی ماہرین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ یقین دہانی چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں کی بلا تعطل تکمیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
چین نے اس موقع پر علاقائی امن و استحکام اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ موقف اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ یہ نیا اتفاق رائے پاکستان اور چین کے درمیان “آئرن برادرانہ” تعلقات کی مزید مضبوطی کا مظہر ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔




