کرپٹو کرنسی کی دنیا کے چند امیر ترین افراد ایک ایسے نئے سماجی اور سیاسی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ووٹ کا حق اور اس کی قوت براہ راست مالی حیثیت سے منسلک ہوگی۔ ان ارب پتیوں کا خیال ہے کہ روایتی جمہوریت اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ایک متبادل نظام متعارف کرایا جائے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ جمہوری ماڈل، جو صدیوں سے رائج ہے، اب جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اسی سوچ کے تحت، یہ کرپٹو ارب پتی اپنی خود مختار ‘قومیں’ یا ‘ریاستیں’ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جہاں حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل میں مالی سرمایہ کاری کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔
اس نئے تصور کے تحت، ایک شہری کی ووٹنگ پاور اس کے پاس موجود کرپٹو اثاثوں یا دیگر مالی وسائل کی مقدار پر منحصر ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ دولت مند افراد کے پاس زیادہ سیاسی اثر و رسوخ ہوگا۔ یہ ماڈل جمہوریت کے بنیادی اصولوں، یعنی ‘ایک شخص ایک ووٹ’ کے خلاف ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے، اور اس پر عالمی سطح پر بحث و مباحثہ متوقع ہے۔



