کوئٹہ: حنا اورک وادی سے اغوا کیے گئے قبائلیوں کی رہائی کے بعد کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ پر جاری دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ دھرنا پانچ قبائلیوں کے قتل، آٹھ کے زخمی ہونے اور گیارہ کے اغوا کے خلاف دیا گیا تھا۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور احتجاجی کمیٹی کے رہنماؤں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد مغویوں کو رہا کیا گیا، جس کے بعد مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ 5 جولائی کو مسلح افراد نے کوئٹہ کے نواحی علاقے حنا اورک وادی پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ قبائلی ہلاک، آٹھ زخمی اور گیارہ دیگر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف لواحقین اور مقامی قبائلیوں نے ایئرپورٹ روڈ کو پانچ روز تک بند رکھا تھا، جس سے شہر کی ٹریفک شدید متاثر ہوئی تھی۔
مغوی قبائلیوں کی رہائی جمعرات کی رات گئے عمل میں آئی، جس کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا۔ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے میڈیا ایڈوائزر بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں تمام مغویوں کی بازیابی کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق، قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مغویوں کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پیشرفت کے بعد، بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مظاہرین سے ملاقات بھی کی۔
دریں اثنا، ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے انہیں اپنے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا۔ بلوچستان کے وزیر صحت اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے مقتول قبائلیوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ دوسری جانب، شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کا احتجاج جاری ہے، جس کے باعث کوئٹہ، پشین اور زیارت کے درمیان ٹریفک بدستور معطل ہے۔






