گلگت بلتستان کے معروف سیاسی و مذہبی رہنما سید عباس رضوی طویل علالت کے بعد 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اسکردو سے خاندانی ذرائع نے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد پورے خطے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ مرحوم سید عباس رضوی کا شمار گلگت بلتستان کی ان قد آور شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی خطے کی سماجی، سیاسی اور مذہبی زندگی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کیے۔ ان کی وفات کی خبر سنتے ہی عوام میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سید عباس رضوی نے اپنی جوانی سے ہی گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنا رکھا تھا۔ وہ نہ صرف ایک متحرک سیاسی کارکن اور عوامی نمائندے تھے بلکہ ایک جید عالم دین بھی تھے جنہوں نے مذہبی تعلیمات کے فروغ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و بھائی چارے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک خطے کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کیا، عوامی حقوق کے لیے بے باکی سے آواز بلند کی اور مظلوموں کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ان کی سیاسی بصیرت، مذہبی رہنمائی اور عوامی خدمت کے جذبے نے انہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت بخشی۔
مرحوم سید عباس رضوی کی نماز جنازہ آج اسکردو میں ادا کی جائے گی جس میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں، سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ ان کی وفات پر گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ، گورنر، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سید عباس رضوی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پر نہیں ہو سکے گا اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔



