ہری پور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ہری پور میں پانچ سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے قانون (چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ) کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور اسے متاثرہ بچی کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ بچی 10 اگست کو ہری پور میں اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کی لاش 24 اگست کو اس کے گھر سے تقریباً ایک فرلانگ کے فاصلے پر ایک گودام کے قریب غیر استعمال شدہ کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔ یہ لاش کیس میں گرفتار چار ملزمان میں سے ایک کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ملی تھی۔
وزیراعلیٰ آفریدی نے ہفتے کے روز ہری پور میں بچی کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عزم کیا: “میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان (ملزمان) کی عمریں کچھ بھی ہوں، ہم انہیں ایسا عبرت کا نشان بنائیں گے کہ آئندہ کوئی بھی ایسا وحشیانہ فعل کرنے سے پہلے سوچنے سے بھی کانپ اٹھے گا۔” انہوں نے اس جرم کو غیر انسانی اور وحشیانہ فعل قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ہماری حکومت اور انتظامیہ اپنے بچوں کو ایسے مجرموں سے تحفظ فراہم نہیں کر سکتی جو بغیر کسی خوف کے ایسے گناہ کر رہے ہیں، تو ہمیں اپنے دفاتر بند کر دینے چاہئیں – ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ، بالخصوص پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ہر عمر کے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی رٹ کو مزید مضبوط کرے۔ انہوں نے عدلیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس کیس میں فوری انصاف فراہم کرے۔







