“ڈیجا وو” کے تازہ ترین سلسلے میں، ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح نئے میڈیا نے سازشی نظریات کو پروان چڑھایا، یورپ میں جادوگرنیوں کے شکار سے لے کر مصنوعی ذہانت (AI) تک۔ یہ ایک ایسا تاریخی تسلسل ہے جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کس طرح معلومات کا پھیلاؤ، چاہے وہ قدیم شکل میں ہو یا جدید، معاشرتی خوف اور غلط فہمیوں کو جنم دے سکتا ہے۔
یورپ کی تاریخ میں جادوگرنیوں کے شکار کا دور ایک تاریک باب ہے، جہاں ہزاروں بے گناہ افراد کو محض شک کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس جنون کو پروان چڑھانے میں ایک ‘خفیہ کتاب’ نے کلیدی کردار ادا کیا، جسے اس وقت کے ‘نئے میڈیا’ کی ایک شکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب نے جادوگری کے بارے میں غلط فہمیاں اور خوف پھیلا کر سازشی نظریات کو تقویت بخشی، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے اعتمادی اور وحشت کا ماحول پیدا ہوا۔ یہ کتاب، جو بظاہر ایک مستند ذریعہ سمجھی جاتی تھی، نے لوگوں کے ذہنوں میں جادوگرنیوں کے وجود اور ان کے خطرناک ارادوں کے بارے میں پختہ عقائد پیدا کیے۔
آج کے دور میں، اگرچہ ہم جادوگرنیوں کے شکار کے جنون سے بہت دور ہیں، لیکن سازشی نظریات کو پھیلانے کا طریقہ کار حیرت انگیز طور پر یکساں نظر آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں بھی مختلف قسم کے سازشی نظریات گردش کر رہے ہیں، جنہیں سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں ماضی کے ان واقعات کی یاد دلاتی ہے کہ کس طرح معلومات کا غلط استعمال اور نئے ابلاغی ذرائع معاشرتی خوف اور غلط فہمیوں کو جنم دے سکتے ہیں، اور یہ کہ ہر دور میں ‘نئے میڈیا’ کا کردار سازشی نظریات کی تشکیل اور پھیلاؤ میں اہم رہا ہے۔





